March 31, 2026
Dastan e Islam
رکن الدین بیبرس

رکن الدین بیبرس قسط 4 – Sultan Ruknuddin Baybars

رکن الدین بیبرس قسط 4 میں جانیے کیسے منگول سفیروں کے قتل کے بعد سلطان ملک مظفر اور بیبرس نے جنگ کا بڑا فیصلہ کیا اور عین جالوت کی تیاری شروع ہوئی۔

منگول سفیروں کا قتل اور جنگ کا اعلان

منگول سفیروں کو قتل کرنے کے بعد سلطان ملک مظفر اور سپہ سالار بیبرس نے کیا بڑا فیصلہ کیا اور میدان جنگ کیسا بنا؟

مصر کے سلطان ملک مظفر نے جب دیکھا کہ لشکروں کا سالار اعلیٰ اپنی جرات مندی اور جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آتش فشاں کی طرح بھڑک اٹھا ہے اور وہ ہر صورت میں منگولوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تب سالار اعلیٰ بیبرس کے ان الفاظ سے اس کے عزم و یقین میں بھی پختگی آگئی لہٰذا بیبرس کی وجہ سے اس نے غضب ناک ہو کر حکم دیا۔

“ان منگول کتوں کی زبانیں گدی سے کھینچ لی جائیں۔ان کا خاتمہ کر دو اور ہماری طرف سے ہلاکو خان کے لیے یہی جواب ہے۔”

سلطان کا اشارہ پاتے ہی وہاں جو مسلح جوان کھڑے تھے وہ ہلاکو خان کے سفیروں پر جهپٹ پڑے اور آناً فاناً انہیں خاک و خون میں لوٹا کر رکھ دیا۔اس کے بعد ہلاکو خان کے ان سفیروں کی لاشیں شہر کی اہم گزر گاہوں پر لٹکا دی گئی تھیں۔سلطان ملک مظفر اور بیبرس کے ایسا کرنے سے مسلمانوں میں جو منگولوں کا خوف تھا،وہ جاتا رہا اور وہ منگولوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔

اہل مصر نے منگول سفیروں کو ہلاک کر کے گویا ہلاکو خان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔اب اہل مصر کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ لڑ کر فتح حاصل کریں یا اپنی جانیں قربان کر دیں۔ان حالات میں مصر کے سلطان الملک مظفر نے منگولوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سارے اختیارات اپنے سالار امیر بیبرس کے حوالے کر دیے تھے۔

امیر رکن الدین بیبرس سے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں

وہ ایک کمال کا انسان،ایک بانكا لشکری اور نڈر سپہ سالار تھا۔منگولوں کی طاقت اور قوت کے افسانے سن کر وہ اکثر قہقہے لگایا کرتا تھا اور کہتا تھا۔وقت آنے دو ہم ان مغرور وحشی منگولوں کو بتا دیں گے کہ صرف وہی لڑنا نہیں جانتے۔دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کا پنجہ مروڑ سکتے ہیں۔

منگول سفیروں کو قتل کرنے کے بعد مصر کے سلطان ملک مظفر نے امیر رکن الدین بیبرس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ منگولوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا تو وہ لشکریوں کے سپہ سالار کے عہدے کے علاوہ مصر کا حاکم بھی مقرر کر دیا جائے گا۔

بہر حال امیر رکن الدین بیبرس نے منگولوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگ کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔وہ دن رات تیاری میں لگا رہا۔اس نے قاہرہ کے ہر تندرست اور بالغ مرد کے لیے عسکری خدمت لازمی قرار دے دی اور حکم جاری کر دیا کہ جو کوئی بھی معقول عذر کے بغیر لشکر میں بھرتی ہونے سے گریز کرے گا اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔

اہل قاہرہ کے علاوہ رکن الدین بیبرس نے اپنے لشکر میں ان پناہ گزین ترکمانوں،عرب بدوؤں اور دوسرے قبائل کو بھی بھرتی کرنا شروع کر دیا تھا جو اس سے پہلے منگولوں کے ہاتھوں نقصان اٹھا چکے تھے اور یہ لوگ بڑے نڈر اور اعلیٰ درجے کے جنگجو تھے جن کی شجاعت پر ہر حال میں بھروسہ کیا جا سکتا تھا۔

چند ہی دنوں میں رکن الدین بیبرس کے پاس ایک جرار لشکر تیار ہو گیا۔اس لشکر میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو منگولوں کے ہاتھوں ستائے گئے تھے یا غلام بنائے گئے تھے،بکتے بكاتے مصر پہنچ گئے تھے اور اب وہ منگولوں سے انتقام لینے کے لیے فن حرب و ضرب میں کمال درجے کی مہارت حاصل کر چکے تھے۔دراصل یہی وہ لوگ تھے جو منگولوں کے آس پاس آباد تھے جو ان کے جنگی طریقوں سے واقف تھے اور منگولوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت اور جرات بھی رکھتے تھے۔

جن دنوں امیر رکن الدین بیبرس قاہرہ میں اپنی جنگی تیاریوں میں مصروف تھا انہی دنوں ہلاکو خان فلسطین میں قیام کیے ہوئے تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ اس کا بھائی منگو خان جو اس وقت منگولوں کا خان اعظم تھا وفات پا گیا ہے لہٰذا اس کا جانشین نامزد کرنے کے لیے سارے منگول سرداروں اور سربراہوں کو آبائی دشت میں طلب کر لیا گیا ہے۔

ہلاکو خان کو جب یہ پیغام پہنچا تو اس نے اپنے آبائی دشت کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا۔اس موقع پر اس کے سپہ سالار قط بوغا اور اس کی بیوی دقوزہ خاتون نے اصرار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف ہماری یلغار جاری رہنی چاہیے۔رہا سوال خان اعظم منگو خان کا تو وہ اب مر چکا ہے۔دقوزہ خاتون جو ہلاکو خان کی بیوی تھی،بنیادی طور پر عیسائی تھی اور مسلمانوں کی تباہی اور بربادی چاہتی تھی لہٰذا وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہلاکو خان واپس جائے۔وہ یہ عزم کیے ہوئے تھی کہ ہلاکو کو مصر پر حملہ آور ہونا چاہیے۔اس موقع پر اس نے ہلاکو کو یاد کرایا کہ جس وقت اس کے بھائی منگو خان نے اسے مسلمانوں کے علاقوں پر حملہ آور ہونے کے لیے روانہ کیا تھا تو اس نے حکم دیا تھا کہ ہر صورت مصر کا خاتمہ کر دینا۔

لیکن ہلاکو خان نے اپنے سپہ سالار قط بوغا اور اپنی بیوی کی بات نہیں مانی۔اس نے واپسی کا ارادہ کر لیا۔وہ چاہتا تھا کہ اپنے لشکر کا ایک حصہ ساتھ لے کر جائے۔اس نے یہ بھی وجہ پیش کی کہ اس وقت میرا واپس جانا ضروری ہے اس لیے کہ ان دنوں راستے میں گھوڑوں کے لیے خوراک کی صورت میں گھاس مل جائے گی اور اگر میں نے واپس جانے میں تاخیر کی تو سرما کا موسم شروع ہو جائے گا۔گھاس ختم ہو جائے گی اور راستے میں مجھے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بہر حال ہلاکو نے واپس جانے کا ارادہ کر لیا اور واپس جاتے وقت اس نے اپنے سپہ سالار قط بوغا سے کہا۔

“میرے بعد اس علاقے کی نگہداری تمہارے ذمے ہے جب تک میں واپس نہیں آتا تم یہیں رہو گے۔کہیں پیش قدمی نہ کرنا تمہارے ماتحت منگولوں کا ایک بہت بڑا لشکر ہے اس کے علاوہ آرمینیا اور گرجستان کے عیسائی بھی ہزاروں کی تعداد میں تمہارے ساتھ ہے لہٰذا ان سب کے ساتھ مل کر فتح کیے ہوئے علاقوں کی حفاظت کرنا۔”

قط بوغا نے ہلاکو خان کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جو فرض اسے سونپا گیا ہے وہ دل و جان سے اسے پورا کرے گا۔

اس کے بعد ہلاکو خان لشکر کا ایک حصہ لے کر اپنے آبائی وطن صحرائے گوبی کی طرف روانہ ہو گیا۔اب شام و عراق مکمل طور پر اس کے سالار قط بوغا کی گرفت میں تھے۔

قط بوغا ہلاکو کا نہایت قابل اعتماد جرنیل تھا اور مسلمانوں کے علاقوں کو پامال کرنے میں اس نے خاص حصہ لیا تھا۔وہ ایک شقی القلب انسان تھا اور اس کی بربریت کے افسانے سارے عالم اسلام میں مشہور تھے۔ہلاکو خان کے جانے کے بعد اس قط بوغا نے اپنے لشکر کے ساتھ عین جالوت کے مقام پر پڑاؤ کر لیا تھا اور یہ مقام فلسطین کے مشہور شہر ناصرہ کے قریب تھا۔یہ مقام اس کے لیے بڑا مناسب تھا اس لیے کہ وہاں قیام کر کے وہ ایک طرف شام اور عراق پر اپنا تسلط مؤثر طور پر رکھ سکتا تھا اور دوسری طرف جب چاہے مصر کی طرف بھی بڑھ سکتا تھا۔

مصر میں امیر رکن الدین بیبرس کو بھی خبر ہو گئی کہ ہلاکو خان واپس اپنے آبائی دشت چلا گیا ہے لہٰذا اس نے ایک ایسا بڑا فیصلہ کیا جو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔مصری تو یہ خیال کر رہے تھے کہ وہ منگولوں کے سامنے اپنی سرزمینوں کا دفاع کریں گے لیکن اس موقع پر امیر رکن الدین بیبرس نے اعلان کیا۔

“ہمارا لشکر آگے بڑھ کر ہلاکو خان کے سپہ سالار کے لشکر سے نبرد آزما ہو گا۔”

اس وقت رمضان کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔بیبرس کے اعلان نے اس کے لشکریوں کو اس مقدس مہینے میں منگولوں کے خلاف جنگ کرنے کی افضل ترین عبادت سے سعادت اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔چنانچہ لوگوں نے بڑی خوشی سے رکن الدین بیبرس کے اس فیصلے کو قبول کر لیا لہٰذا ركن الدین اپنے لشکر کو لے کر بڑی تیزی سے فلسطین میں داخل ہوا۔

ان دنوں عیسائی دنیا کیونکہ مسلمانوں کے خلاف منگولوں کا ساتھ دے رہی تھی اور بحیرہ روم کے کنارے کنارے نصرانیوں کے بہت سے قلعے بھی تھے لہٰذا اپنے لشکر کے کچھ حصے رکن الدین نے ان قلعوں کے قریب ہی متعین کر دیے تا کہ ان قلعوں میں جو مسلح صلیبی جنگجو ہیں وہ اپنے قلعوں سے نکل کر مسلمانوں کے خلاف منگولوں کی مدد نہ کر پائیں۔

جاری ہے۔ان شاءاللہ!


مزید پڑھیں: رکن الدین بیبرس قسط 5

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *