Sultan Ruknuddin Baybars | سلطان رکن الدین بیبرس | Qist 1
اس قسط میں آپ جانیں گے درجہ ذیل معلومات
پیدائش اور ابتدائی زندگی
سلطان بیبرس سن 1223ء میں وسط ایشیا میں پیدا ہوا۔ اس کے والد خوارزم شاہی سلطنت میں ایک معتبر عہدے پر فائز تھے۔ منگولوں کے حملوں کے دوران وہ غلام بنا اور دمشق کی منڈی میں لایا گیا۔ ایک امیر نے اسے خریدنے سے انکار کر دیا، پھر مصری امیر علی ابن ورفہ نے اسے خرید کر اپنے زیر اثر رکھا۔
سلطان بیبرس کی جسمانی خصوصیات

سلطان بیبرس کا قد لمبا، اعضاء مضبوط اور متناسب تھے۔ چہرے سے رعب اور وقار جھلکتا تھا۔ رنگ سرخ و سفید، بال سرخ اور آنکھیں نیلی تھیں۔ بچپن میں ایک آنکھ خراب تھی، لیکن اس کمی نے اس کی وقار اور خوبصورتی پر اثر نہیں ڈالا۔
ركن الدین بیبرس – ایک نایاب اور نامور سلطان
وہ عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وہ بے شمار زبانوں پر مکمل مہارت رکھتا تھا۔ عربوں سے عربی میں، منگولوں اور تاتاریوں سے ان کی اپنی زبان میں، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں، اسی طرح دوسری قوموں سے بھی وہ انہی کی زبان میں بڑی روانی سے بات چیت کرنے کا ماہر تھا۔
غلامی سے سلطنت تک کا سفر

سلطان بننے سے پہلے وہ کئی جگہوں پر ایک غلام کی حیثیت سے مشکلات کا سامنا کرتا رہا، اسی دوران اس نے مختلف زبانیں سیکھ لیں۔ وقت نے اسے کبھی دشتِ قپچاق کے میدانوں میں ایک چرواہے کی صورت میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا، کبھی دمشق شہر میں غلاموں کی منڈی میں بکتے دیکھا۔
کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امیروں کی نوکری اور خدمت کرتے ہوئے وقت گزارا اور کبھی جنگ کے میدان میں ایک بہادر سپاہی کے ساتھ بھی دکھائی دیا۔ اور کبھی وقت کی تیز نگاہ نے اسے اسلامی فوج کے سب سے بڑے سپہ سالار کی حیثیت سے بھی دیکھا۔
امریکی مورخ کا بیان
“اسے اپنے آپ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں تھا، اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت کرتا اور اپنے دشمنوں کی معلومات خود ہی حاصل کرتا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر اکیلا نکل جاتا۔ کبھی اسے مصر میں دیکھا جاتا اور کبھی وہ اگلے ہی دن فلسطین میں نظر آتا۔ چار دن بعد لوگ اسے عرب کے ریگستانوں میں دیکھتے، اور اس کے چند دن بعد وہ خانہ بدوشوں کی طرح تیزی سے سفر کرتے ہوئے کسی اور جگہ لوگوں کو دکھائی دیتا۔”
منگولوں کے علاقوں میں جرات و بہادری

جن دنوں وہ عالم اسلام کا سلطان بنا، منگولوں نے مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کے زیادہ تر علاقوں کو تباہ کر دیا تھا، اور ہلاکو خان مسلمانوں کے علاقوں میں طاقت کے ساتھ پھر رہا تھا۔
ایک بار، ایک منگول گانے والے (مُغنی) کا بھیس بدل کر وہ اکیلا اور تنہا ہلاکو خان کی سلطنت میں داخل ہوا۔ کئی دن کے مسلسل سفر کے بعد وہ اس کے علاقوں میں پہنچا اور گاؤں گاؤں، بستی بستی ان علاقوں کی جاسوسی کرتا رہا۔ چونکہ وہ مختلف زبانیں جانتا تھا، کسی کو شک نہ ہوا کہ وہ مسلمان یا سلطان ہے۔
ہلاکو خان کی سلطنت میں ایک انگوٹھی

ایک دن اس نے منگولوں کے ایک شہر میں نان بائی کی دکان میں کھانا کھایا اور اپنی شاہی انگوٹھی ایک برتن میں رکھ دی۔ بعد میں وہ اپنے علاقے میں واپس آیا اور قاصد کے ذریعے ہلاکو خان کو پیغام بھیجا کہ انگوٹھی واپس بھیجی جائے۔
ہلاکو خان اس کی جرات اور بہادری پر حیران رہ گیا اور انگوٹھی واپس بھجوا دی۔
صلیبی علاقوں میں جاسوسی
سلطان ایک نصرانی حاجی کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے قبضے والے علاقوں میں جا گھسا اور کئی مہینوں تک ان کے فوجی ٹھکانوں، قلعوں اور اہم مقامات کا جائزہ لیتا رہا۔ تقریباً بائیس قلعے دیکھنے میں کامیاب ہوا جو صلیبیوں کی فوجی طاقت کے مرکز تھے۔
انطاکیہ کے بادشاہ بوہیمنڈ کے دربار میں شکار
اس نے قاصد اور سفیر کا بھیس بدل کر جنگل میں ہرن کا شکار کیا اور اسے انطاکیہ کے بادشاہ کے دربار میں پیش کیا، کہا:
“عالی جاہ! مجھے مصر کے سلطان الملک الظاہر نے بھیجا ہے۔ ہمیں پتا چلا کہ آپ شکار کا شوق رکھتے ہیں، لہٰذا یہ تازہ شکار بطور تحفہ بھیجا گیا ہے۔”
بادشاہ بوہیمنڈ پر خوف طاری ہو گیا جب معلوم ہوا کہ یہ شخص خود مسلمان سلطان ہے۔
سلطان بیبرس کی دلچسپ اور شاندار زندگی کی داستان یہاں ختم نہیں ہوتی، مزید پڑھنے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کریں۔ ان شاء اللہ!

