Sultan Ruknuddin Baybars | سلطان رکن الدین بیبرس | Qist 2
اس قسط میں آپ جانیں گے درجہ ذیل معلومات
غلامی کے ایام اور فاطمہ کی شفقت

دوسرا امیر جس نے محمود کو خریدا تھا اس کی بیوی نے اپنے چھوٹے بچے کی دیکھ بھال محمود کے سپرد کر دی۔ بد قسمتی سے ایک دن محمود سے کوئی لغزش ہو گئی۔ اس پر اس کی مالکہ نے اسے مار مار کر ادھ موا کر دیا اور بری طرح اسے پیٹا۔
اس موقع پر اس امیر کی بہن بھی وہاں موجود تھی۔ اس کا نام فاطمہ تھا۔ اس نے جب محمود کو پٹتے ہوئے دیکھا تو اس کو اس لاوارث اور غلام بچے پر بڑا رحم آیا۔ اس نے انتہائی سختی سے اپنی بھاوج کو کہا:
“اگر تم اس غلام کے کام سے خوش نہیں ہو تو اس کو میرے سپرد کر دو۔”
وہ عورت رضا مند ہو گئی اور فاطمہ محمود کو اپنے ساتھ دمشق لے گئی جہاں اس کا اپنا گھر تھا۔ فاطمہ کا ایک بڑا بیٹا تھا جو فوت ہو گیا تھا اور حسن اتفاق سے اس مرنے والے کی شکل محمود سے ملتی جلتی تھی۔ اس بنا پر فاطمہ نے اسے اپنے بیٹے کی حیثیت سے اپنے پاس رکھ لیا اور وہ محمود کی بجائے اسے بیبرس کہہ کر پکارنے لگی۔ یہ فاطمہ بیبرس کے ساتھ مادرانہ شفقت کے ساتھ پیش آتی، اس کا بڑا خیال رکھتی جس طرح اپنے بیٹے کی خدمت کیا کرتی تھی اسی طرح اس کی بھی خوب خدمت کی۔
دربارِ مصر تک رسائی

فاطمہ نام کی اس عورت کا ایک بھائی تھا جو مصر کے سلطان الملک الصالح نجم الدین ایوب کے دربار میں ایک معزز عہدے پر فائز تھا۔ ایک بار وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے دمشق آیا تو وہاں اس نے بیبرس کو دیکھا، اس کے حالات سنے۔ لڑکے کے اطوار اور عادات اسے اس قدر پسند آئیں کہ اس نے گزارش کرنے کے انداز میں فاطمہ سے بیبرس کو مانگ لیا۔ فاطمہ نے بیبرس کو اپنے بھائی کے حوالے کر دیا اور اس کا بھائی بیبرس کو دمشق سے قاہرہ لے گیا اور وہاں اس نے بیبرس کو مصر کے سلطان الملک صالح کی نذر کر دیا۔
سلطان الملک صالح نے بیبرس کے علاوہ اور بہت سے بلکہ بے شمار لاوارث بچوں کو خرید رکھا تھا اور ان کی تعلیم اور تربیت کے لیے اس نے خاص انتظامات کیے ہوئے تھے۔
بیبرس نے بھی الملک صالح کی سرپرستی میں کتابی علوم اور حربی فنون میں اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد وہ حسب دستور مصری لشکر میں بھرتی ہو گیا تھا۔
اپنی غیر معمولی جسمانی قوت، ذہانت اور وجاہت کی بدولت لشکر کے ایک دستے کا سالار مقرر کر دیا گیا۔ تاہم اس وقت تک اس نے کوئی خاص شہرت حاصل نہ کی تھی۔
ساتویں صلیبی جنگ کی ابتدا

اتفاق سے اسی زمانے ساتویں صلیبی جنگ کی ابتدا ہو گئی۔ ساتویں صلیبی جنگ کی ابتدا فرانس کے بادشاہ لوئی نہم نے کی تھی۔ اس نے اپنے کام کی ابتدا اس طرح کی کہ مصر پر حملہ آور ہوا۔ وہ چاہتا تھا کہ پہلے مصر پر حملہ آور ہو اور آگے بڑھ کر پورے فلسطین پر قابض ہو جائے۔
جن دنوں فرانس کا بادشاہ مصر پر حملہ آور ہوا ان دنوں مصر کا حکمران الملک صالح تھا۔ اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے کہ جس وقت فرانس کا بادشاہ مصر پر حملہ آور ہوا اس وقت مصر کا سلطان الملک صالح بری طرح بخار میں مبتلا تھا۔ بیمار تھا، حرکت نہیں کر سکتا تھا، تاہم اس حالت میں بھی وہ منصورہ کے میدانوں میں فرانسیسیوں کے سامنے آیا۔ اس کی ملکہ شجرة الدر اس موقع پر اس کے ساتھ تھی کیونکہ سلطان بیمار تھا۔ شجرة الدر ایک نہایت زیرک، بلند حوصلہ اور بڑی شجاع خاتون تھی۔
سلطان کی وفات اور حکمت عملی
جن دنوں لوئی نہم مصر کی سرزمینوں میں داخل ہوا بد قسمتی سے مصر کا سلطان الملک صالح فوت ہو گیا۔ کیونکہ فرانسیسی حملہ آور ہو چکے تھے لہٰذا شجرة الدر نے سلطان کی موت کو مخفی رکھا، کسی پر ظاہر نہیں کیا اور اس کے بیٹے توران شاہ کو جو اس وقت حصن طیفہ کے مقام پر قیام کیے ہوئے تھا، منصورہ کے میدان میں بلا لیا۔ یہ شجرة الدر کی بڑی فراخدلی تھی۔ توران شاہ گو سلطان کا بیٹا تھا لیکن اس کی دوسری بیوی سے تھا، شجرة الدر کا سوتیلا بیٹا تھا۔
منصورہ کا معرکہ

اپنی سوتیلی ماں کے طلب کرنے پر توران شاہ منصورہ پہنچ گیا۔ منصورہ میں فرانسیسیوں کے ساتھ گھمسان کا رن پڑا۔ جس وقت فرانسیسی اور مصری لشکر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اس وقت لوگوں نے دیکھا ایک انتہا درجے کا جفاکش اور دراز قد نوجوان ایک گھوڑے پر سوار ہو کر برق کے کوندوں کی صورت اپنا نیزہ ہلاتا ہوا صلیبیوں پر حملہ آور ہوتا تھا اور اپنے پیچھے دشمن کی لاشوں کے انبار لگاتا چلا جاتا تھا۔
فرانسیسی جب اس کو حملہ آور ہوتے دیکھتے تو خوف کے مارے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ اس طرح اس نے اپنے کئی حملوں کی وجہ سے فرانسیسیوں کی ان گنت صفوں کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔ اس نوجوان نے اپنے جانبازانہ حملوں سے فرانسیسی لشکر کے اندر ایک تہلکہ برپا کر کے رکھ دیا تھا۔
یہ انقلاب برپا کرنے والا شہسوار سلطان الملک صالح کا غلام بیبرس ہی تھا۔ منصورہ کے میدانوں میں لڑی جانے والی اس جنگ میں اس نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور جرات و شجاعت کا ایسا بھر پور مظاہرہ کیا کہ وہ سب مسلمانوں کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔
فرانسیسیوں کی شکست

منصورہ میں لڑی جانے والی جنگ میں مصریوں کے ہاتھوں فرانسیسیوں کو بد ترین شکست ہوئی اور فرانس کا بادشاہ لوئی نہم بھی گرفتار کر لیا گیا۔ انہی جنگوں کے دوران نیا بادشاہ توران شاہ بھی ہلاک ہو گیا۔ جس کے بعد کثرت رائے سے لشکر کے سالاروں نے ملکہ شجرة الدر کو الملکتہ المسلمین کے نام سے مصر کی حکمران بنا لیا۔
فرانس کی جنگ کے دوران پکڑے جانے والے بادشاہ لوئی نہم سے مسلمانوں نے بڑی فراخدلی کا سلوک کیا۔ اگر مسلمان چاہتے تو قیدی کی حیثیت سے اسے قتل بھی کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ پہلے فرانس کے بادشاہ کو مصر میں نظر بند کر دیا گیا، اس کے بعد مسلمانوں نے مزید فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کے بادشاہ اور اس کے ساتھ قید ہونے والے فرانسیسیوں کو رہا کر دیا۔
خلافتِ بغداد کی مداخلت

ملکہ شجرة الدر جو اب مصر کی حکمران تھی اس نے مصر پر تقریباً اسی دن حکومت کی ہو گی۔ اس دوران اس نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ کاروبارِ حکومت کو اس نے نہایت عمدگی سے چلایا لیکن عباسی خلیفہ بغداد المستعصم باللہ نے عورت کی حکومت کو پسند نہ کیا اور مصری امراء کو پیغام بھجوایا کہ عورت کی بجائے مصر کا حاکم کسی مرد کو بنائیں۔
چنانچہ خلیفہ بغداد کے حکم کا اتباع کرتے ہوئے ایک شخص الملک اشرف کو مصر کا بادشاہ بنایا گیا اور مصری لشکریوں کے سالار اعلیٰ معزز الدین کو نئے حکمران الملک اشرف کا شریک کار بنایا تا کہ سلطنت کا کاروبار احسن طریقے سے چلایا جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملکہ شجرة الدر نے نئے حکمران الملک اشرف سے شادی کر لی تھی۔
شجرة الدر بذات خود ایک کنیز تھی اور اپنے حسن و جمال اور اپنی شخصیت کے باعث کنیز سے ترقی کرتے کرتے وہ مصر کے حکمران الملک صالح کی ملکہ بن گئی تھی۔ اس کا ایک بیٹا خلیل نام کا تھا جو بد قسمتی سے چھ سال کی عمر میں ہی فوت ہو گیا تھا۔
جس وقت الملک اشرف کو مصر کا بادشاہ بنایا گیا اور مصر کے لشکر کے سپہ سالار کو سلطان کا شریک کار اور مدد گار مقرر کیا گیا تب بیبرس کو مصر میں لشکریوں کے بڑے سالار کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔
جاری ہے۔ ان شاء اللہ!

