Sultan Ruknuddin Baybars | سلطان رکن الدین بیبرس | Qist 3
مصنف؛ اسلم راہی ایم اے
جن دنوں بیبرس کو مصر میں لشکریوں کا سالار اعلیٰ مقرر کیا گیا ان دنوں عالم اسلام کی حالت بڑی تشویش ناک تھی۔ منگول جو اپنے آپ کو قہر خدا وندی سمجھتے تھے مسلمانوں کے علاقوں پر حملہ آور ہوتے ہوئے انہوں نے بخارا، سمرقند، بلخ، نیشاپور، ہرات، رے، قزوین اور دوسرے بے شمار شہروں اور قصبوں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ وہاں کے باشندوں میں اکثر کو انہوں نے بے دردی سے تہہ تیغ کیا۔ اس قتل عام میں مرد، بچے، بوڑھے، بیمار معذور کسی کی تخصیص نہ تھی۔ جو لوگ کسی طرح قتل ہونے سے بچ گئے ان کو غلام بنا لیا گیا۔
پہلے چنگیز خان مسلمانوں پر یلغار کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کا پوتا ہلاکو خان عالم اسلام پر چڑھ دوڑا اور ایک جرار لشکر کے ساتھ اسلامی ممالک پر اس ہولناک یلغار کا آغاز کیا جس نے عباسی خلافت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر رکھ دیا۔
ہلاکو خان بغداد پر حملہ آور ہوا۔ بغداد کی اس نے اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی اور عباسی خلیفہ کو اس نے قتل کر دیا۔
بغداد شہر کا تباہ ہونا اور خلیفہ کا قتل ہونا کوئی معمولی سانحہ نہیں تھا۔ اس سے عالم اسلام میں کہرام مچ گیا کیونکہ عباسی خلیفہ کی کمزوری کے باوجود اسے روحانی طور پر ساری اسلامی دنیا کا فرمانروا سمجھا جاتا تھا اور بڑے بڑے باجبروت مسلمان حکمران اور فاتح اس کے سامنے گردنیں جھکاتے تھے۔ اس سے خلعت اور سند حکومت حاصل کرنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے تھے۔
خلیفہ کو قتل اور بغداد کو برباد کرنے کے بعد ہلاکو کا لشکر عراق کے دوسرے شہروں کی طرف بڑھا۔ تباہی اور بربادی، خوں ریزی اور جہالت ہر طرف پھیلاتے چلے گئے۔ چند دن کے اندر الریا، نصیبین اور حران کے با رونق شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور وہاں کے باشندوں کو نہایت بے دردی سے قتل کیا۔
جس وقت ہلاکو خان بغداد عراق کے دوسرے شہروں کو برباد کر چکا تب وہ شام کی سرزمینوں میں داخل ہوا۔ وہاں بھی لرزہ خیز واقعات کا اعادہ کیا۔ اب منگول عراق اور شام میں دندناتے پھر رہے تھے اور ان کی نگاہیں اب مصر پر جم گئی تھیں۔ اس لیے شام کو فتح کرنے کے بعد فلسطین سے ہوتے ہوئے وہ مصر کا رخ کرنا چاہتے تھے۔
مصر میں اس وقت چونکہ حکمران نو عمر سلطان تھا لہٰذا سارے سالاروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ عنقریب منگول مصر پر حملہ آور ہونے کی ابتدا کر دیں گے لہٰذا مصر کا سلطان کسی تجربہ کار شخص کو بنانا چاہیے چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ معزز الدین جو اس سے پہلے نو عمر سلطان کا ایک طرح سے شریک کار اور مددگار تھا، اسے مصر کا سلطان بنا دیا گیا اور بیبرس کو مصر کے سارے لشکروں کا سالار اعلیٰ رکھا گیا۔ معزز الدین ملک مظفر کے نام سے مشہور ہوا۔
دوسری طرف منگول عراق اور شام کو پامال کرتے ہوئے فلسطین میں نمودار ہوئے۔ فلسطین میں اپنے قدم جمانے کے بعد اب ان کی نگاہیں مصر پر جم چکی تھیں اور وہ ہر صورت میں مصر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اس لیے کہ فلسطین اور مصر کے درمیان صحرائے سینا نام کا ایک چھوٹا سا ریگستانی ٹکڑا ہی حائل تھا اور منگولوں کو پختہ یقین تھا کہ وہ اس صحرائی ٹکڑے کو پار کر کے فرعونوں کی سرزمینوں میں قدم رکھ کر وہاں بھی قابض ہو جانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ اب مسلمانوں کی بجائے دریائے نیل میں ان کی کشتیاں چلا کریں گی۔
منگولوں کی اس یلغار کو روکنے کے لیے اب مصر کا نیا سلطان ملک مظفر اور سالار اعلیٰ بیبرس دونوں مل کر اپنے لشکر کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ان کی تربیت کا کام بھی سرانجام دینے لگے تھے۔
آخر فلسطین میں قدم جمانے کے بعد ہلاکو نے مصر پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے مصر کے سلطان کے نام ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا؛
“یہ اس کا فرمان ہے جو ساری دنیا کا آقا ہے اپنی شہر پناہیں منہدم کر دو، اطاعت قبول کر لو اور اگر ایسا کرو گے تو تمہیں امن اور چین سے زندہ رہنے دیا جائے گا۔ اگر تم نے یہ بات نہ مانی تو پھر تم کو جو کچھ پیش آئے گا وہ بلند بالا اور جادوانی آسمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔”
منگول ارواح پرست تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کی ہر شے ایک روح رکھتی ہے۔ نیک اور بد روحوں کو انسانوں کی زندگی پر بڑی حد تک غلبہ حاصل ہے۔ جادوانی بلند اور بالا آسمان کی روح ان کے ہاں سب سے بڑی اور طاقتور خیال کی جاتی تھی۔ اسی بناء پر منگول اس کی قسم کھایا کرتے تھے۔
ہلاکو خان کا یہ خط لے کر اس کے سفیر مصر میں داخل ہوئے کیونکہ ابھی تک کسی مسلمان حکمران نے ان کی اکڑی ہوئی گردن میں خم نہیں ڈالا تھا لہٰذا وہ بڑے اکڑ کر چل رہے تھے۔ ان کا رویہ انتہائی درجہ کا گستاخانہ تھا اور جب انہیں مصر کے سلطان معزز الدین کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے آداب شاہی کا خیال کیے بغیر ہلاکو خان کا خط معزز الدین کے سامنے پھینک دیا جو ملک مظفر کے نام تھا جو مصر کا سلطان تھا۔
اس موقع پر مصر کے سلطان ملک مظفر کی آنکھیں غصے میں شعلے برسا گئی تھیں تا ہم اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا صبر کیا۔ اس وقت بیبرس لشکر کے سالار اعلیٰ کی حیثیت سے اس کے قریب بیٹھا ہوا تھا وہ بھی اپنے رد عمل کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن صبر اور تحمل سے کام لے گیا۔
ہلاکو کا خط سن کر مصر کے سلطان ملک مظفر نے ہلاکو خان کے سفیروں سے کہا؛
“ہم نے ہلاکو خان کا کچھ نہیں بگاڑا اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ مصر کو اپنے حال پر چھوڑ دے۔ ہمارے امن و امان میں خلل نہ ڈالے۔”
اس پر ہلاکو خان کے ان سفیروں میں سے ایک جو ان کا سرکردہ تھا غصے میں لال بھبھوکا ہو گیا چلا کر کہنے لگا؛

“کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا وہی حشر ہو جو بغداد کے مغرور خلیفہ کا ہو چکا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہمارے آقا کی قوت لامحدود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس سے ٹکر نہیں لے سکتی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم جیسے خود سر حکمران اور ان کی رعایا سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔”
مصر کے سلطان ملک مظفر نے ان سفیروں کو بڑا سمجھایا کہ اپنی روش سے باز آجائیں لیکن ان کا لب و لہجہ ناقابل برداشت ہوتا چلا گیا۔ اس موقع پر ملک مظفر نے اپنے بہت سے سالاروں سے مشورہ کیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہیے؟ اکثر سالاروں کی رائے یہ تھی کہ منگولوں کی غیر مشروط اطاعت قبول کر لینی چاہیے اسی میں بہتری اور بھلائی ہے۔
اپنے سالاروں کے ان الفاظ پر بیبرس آتش فشاں کی طرح بھڑک اٹھا اور ہلاکو خان کے سفیروں کے سامنے چھاتی تانتے ہوئے اور جرات مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگا؛
“مصر مسلمانوں کی آخری امید گاہ ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ہم سر سے کفن باندھ کر لڑیں گے۔” جاری ہے ان شاءاللہ!
مجھے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہر حال ہلاکو نے واپس جانے کا ارادہ کر لیا اور واپس جاتے وقت اس نے اپنے سپہ سالار قط بوغا سے کہا؛
“میرے بعد اس علاقے کی نگہداری تمہارے ذمے ہے جب تک میں واپس نہیں آتا تم یہیں رہو گے۔ کہیں پیش قدمی نہ کرنا تمہارے ماتحت منگولوں کا ایک بہت بڑا لشکر ہے اس کے علاوہ آرمینیا اور گرجستان کے عیسائی بھی ہزاروں کی تعداد میں تمہارے ساتھ ہے لہٰذا ان سب کے ساتھ مل کر فتح کیے ہوئے علاقوں کی حفاظت کرنا۔”
قط بوغا نے ہلاکو خان کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ جو فرض اسے سونپا گیا ہے وہ دل و جان سے اسے پورا کرے گا۔
اس کے بعد ہلاکو خان لشکر کا ایک حصہ لے کر اپنے آبائی وطن صحرائے گوبی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اب شام و عراق مکمل طور پر اس کے سالار قط بوغا کی گرفت میں تھے۔
قط بوغا ہلاکو کا نہایت قابل اعتماد جرنیل تھا اور مسلمانوں کے علاقوں کو پامال کرنے میں اس نے خاص حصہ لیا تھا۔ وہ ایک شقی القلب انسان تھا اور اس کی بربریت کے افسانے سارے عالم اسلام میں مشہور تھے۔ ہلاکو خان کے جانے کے بعد اس قط بوغا نے اپنے لشکر کے ساتھ عین جالوت کے مقام پر پڑاؤ کر لیا تھا اور یہ مقام فلسطین کے مشہور شہر ناصرہ کے قریب تھا۔ یہ مقام اس کے لیے بڑا مناسب تھا اس لیے کہ وہاں قیام کر کے وہ ایک طرف شام اور عراق پر اپنا تسلط مؤثر طور پر رکھ سکتا تھا اور دوسری طرف جب چاہے مصر کی طرف بھی بڑھ سکتا تھا۔
مصر میں امیر رکن الدین بیبرس کو بھی خبر ہو گئی کہ ہلاکو خان واپس اپنے آبائی دشت چلا گیا ہے لہٰذا اس نے ایک ایسا بڑا فیصلہ کیا جو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ مصری تو یہ خیال کر رہے تھے کہ وہ منگولوں کے سامنے اپنی سرزمینوں کا دفاع کریں گے لیکن اس موقع پر امیر رکن الدین بیبرس نے اعلان کیا؛
“ہمارا لشکر آگے بڑھ کر ہلاکو خان کے سپہ سالار کے لشکر سے نبرد آزما ہو گا۔” اس وقت رمضان کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا۔ بیبرس کے اعلان نے اس کے لشکریوں کو اس مقدس مہینے میں منگولوں کے خلاف جنگ کرنے کی افضل ترین عبادت سے سعادت اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ چنانچہ لوگوں نے بڑی خوشی سے رکن الدین بیبرس کے اس فیصلے کو قبول کر لیا لہٰذا ركن الدین اپنے لشکر کو لے کر بڑی تیزی سے فلسطین میں داخل ہوا۔
ان دنوں عیسائی دنیا کیونکہ مسلمانوں کے خلاف منگولوں کا ساتھ دے رہی تھی اور بحیرہ روم کے کنارے کنارے نصرانیوں کے بہت سے قلعے بھی تھے لہٰذا اپنے لشکر کے کچھ حصے رکن الدین نے ان قلعوں کے قریب ہی متعین کر دیے تا کہ ان قلعوں میں جو مسلح صلیبی جنگجو ہیں وہ اپنے قلعوں سے نکل کر مسلمانوں کے خلاف منگولوں کی مدد نہ کر پائیں۔ جاری ہے۔ ان شاءاللہ!

