May 5, 2026
Dastan e Islam
رکن الدین بیبرس

Sultan Ruknuddin Baybars | سلطان رکن الدین بیبرس | Qist 6


مصر کے عوام سمجھتے تھے کہ بیبرس کے جذبہ جہاد،شجاعت اور اعلیٰ کردار کی بدولت انہیں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور وہ یہ بھی خیال کرتے تھے کہ سلطان رکن الدین بیبرس ہی منگولوں اور صلیبیوں نبٹنے اور عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سلطان رکن الدین بیبرس کیونکہ پہلے غلام تھا لہٰذا وہ خود اور اس کے بعد جس قدر اس کے جانشین ہوئے انہیں غلام یا مملوک فرمانروا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

مصر کا سلطان بننے کے بعد بیبرس نے اپنا لقب الملک ظاہر رکھا چنانچہ تاریخ کے اوراق میں سلطان کو زیادہ تر الملک ظاہر کے نام سے ہی یاد کیا گیا ہے۔

مصر کا سلطان بنتے ہی رکن الدین بیبرس نے سلطنت کے اندر تمام مفاسد کا قلعہ قمع کر کے رکھ دیا جو اس سے پہلے پیدا ہو چکے تھے اور خصوصیت کے ساتھ ملک مظفر کے عہد حکومت میں پیدا ہوئے تھے۔

چنانچہ اس نے کسی تاخیر کے بغیر ہر قسم کے ناجائز ٹیکسوں اور محصولات کو ختم کر دیا۔تمام شراب خانوں،قحبہ خانوں اور قمار بازی کے اڈوں کو سختی کے ساتھ بند کروا دیا۔

تخت نشین ہونے کے بعد سلطان بیبرس کے سامنے اہم مسئلہ شام کو منگولوں کے خطروں سے محفوظ رکھنا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ عین جالوت کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے کسی بھی وقت شام پر حملہ آور ہو سکتے تھے۔اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی محسوس کرتا تھا کہ شام کی بقا کا انحصار مصر سے مکمل الحاق پر ہے اور جب تک وہ تمام حکام اور رؤسا جو شام میں متعدد چھوٹی چھوٹی املاک اور ریاستوں پر قابض تھے مصر کی بالا دستی تسلیم نہیں کر لیتے اس وقت تک شام ہمیشہ منگولوں اور صلیبیوں کے حملوں کی زد میں رہے گا۔

چنانچہ ان مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اپنی تخت نشینی کے کچھ عرصہ بعد وہ ایک طاقتور لشکر لے کر روانہ ہوا شام میں داخل ہوا اور دمشق میں ایک اجلاس منعقد کر کے شام عمائدین اور اکابر کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔مسلمانوں کی خوش قسمتی کہ شام کے لوگ بہت زیرک ثابت ہوئے۔انہوں نے بلا تامل اس کی اطاعت قبول کر لی اور اس طرح سلطان صرف مصر ہی نہیں شام کا بھی سلطان بن گیا۔شام کو اپنے ساتھ ملانے کے بعد سلطان بیبرس نے اہل شام کو اہل مصر کے مساوی حقوق عطا کیے اور اعلان کیا کہ شام سلطنت اسلامیہ مصر کا دوسرا بازو ہے اور دمشق اس متحدہ سلطنت کا دوسرا مرکز حکومت ہوگا۔

سلطان بیبرس نے شام کے بعض شہروں اور ریاستوں میں قدیم خاندانوں کی امارت برقرار رکھی لیکن ان پر یہ شرط عائد کی کہ مرکزی حکومت کے احکام اور آئین کے پابند ہوں گے۔اس طرح شام بھی سلطان بیبرس کی مملكت کا ایک حصہ بن گیا۔

ان دنوں شام بڑی وسیع سلطنت تھی اس لئے کہ شام میں اس وقت لبنان،اردن،فلسطین اور اسرائیل کے سارے علاقے شامل ہوا کرتے تھے۔صرف بحیرہ روم کے کنارے کنارے نصرانیوں کے قبضے میں کچھ قلعے تھے۔یہ سارے کام سرانجام دینے کے بعد سلطان بیبرس نے ہلاکو خان کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔اس نے جہاں اپنے دفاع کو مظبوط کیا وہاں اس نے اپنے لشکر کی تعداد بڑھائی۔اس نے حلب شہر سے لے کر عراق تک تمام جنگلوں اور گھاس کے خطوں میں آگ لگوا دی تا کہ حملہ آور منگول آسانی سے پیش قدمی نہ کر سکیں۔یہ سارے انتظامات کرنے کے بعد ایک بار پھر سلطان بیبرس ارض شام سے مصر کی طرف چلا گیا تھا۔

شام سے واپس مصر جانے کے بعد بیبرس نے سب سے پہلے عباسی خلافت کو بحال کیا۔ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے ساتھ ہی عباسی خلافت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔خلافت جیسی بھی تھی ہر صورت میں وہ مسلمانان عالم کے نزدیک عمومی طور پر مرکز ملت کا درجہ رکھتی تھی۔اس کے ختم ہو جانے سے مسلمان اپنی دینی اور سیاسی زندگی کے اندر گہرا خلا محسوس کر رہے تھے۔

سلطان بیبرس بھی اس معاملے میں لوگوں کے جذبات سے بخوبی آگاہ تھا چنانچہ برسراقتدار آنے کے بعد اس نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ خلافت عباسیہ کا از سر نو استوار کیا جائے اور سر دست اس کا مرکز قاہرہ میں ہی قائم کیا جائے۔

منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے وقت ایک عباسی شہزادہ نام جس کا ابو القاسم تھا قید میں تھا بعد میں ہنگاموں کے دوران جب بغداد کے قید خانوں سے بہت سے قیدی بھاگ نکلے تو وہ شہزادہ بھی ان قیدیوں کے ساتھ بھاگ نکلا اور ساڑھے تین سال تک گوشہ گمنامی میں پڑا رہا۔اتفاق سے سلطان بیبرس کو اس کی جائے قیام کا علم ہو گیا چنانچہ اس نے دس سر کردہ آدمیوں کو بھیجا اور ابو القاسم کو مصر آنے کی دعوت دی۔ابو القاسم نے دعوت قبول کر لی اور اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مصر میں داخل ہوا۔

مصر میں اس کا شاندار طریقے سے استقبال کیا گیا۔شہر کو عالیشان انداز میں سجایا گیا اس کے بعد سلطان بیبرس مصر کے قاضی القضا کے علاوہ دوسرے اہم امراء اور منصب داروں نے بھی ابو القاسم کے ہاتھ پر بیعت کی اس طرح پھر خلافت عباسیہ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مصر کے اندر سلطان بیبرس نے سکوں اور خطبوں میں نئے عباسی خلیفہ ابو القاسم کا نام جاری کیا۔

دوسری طرف ہلاکو خان بھی اپنے آبائی وطن صحرائے گوبی سے لوٹ آیا تھا اور اب وہ مسلمانوں سے اپنے سالار کی شکست کا بدلہ لینے کے متعلق سوچنے لگا تھا۔ہلاکو خان کو سلطان بیبرس پر سخت غصہ اور غضب تھا اس لیے کہ سلطان بیبرس نے تاتاریوں کی ہیبت ناک طاقت کے سامنے تلواروں کا بند باندھ کر رکھ دیا تھا۔اپنی جرات مندی،اپنی شجاعت اور اپنی زبردست شخصیت کا لوہا اس نے تمام دنیا سے منوا لیا تھا۔اب سلطان بیبرس ہی کی وجہ سے عالم اسلام میں مصر اور شام کی مملكت کو مركزی اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔

دوسری طرف ہلاکو خان سلطان بیبرس کے سامنے ایک نئی طاقت کھڑی کرنا چاہتا تھا۔سلطان بیبرس کا مقابلہ کرنے کے لیے منگول اور مشرقی یورپ کے صلیبی آپس میں اتحاد کرنے لگے تھے اور انہوں نے مصر اور شام کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے گٹھ جوڑ کرنا شروع کر دیا تھا۔

سلطان بیبرس نے دیکھا کہ اس پر حملہ آور ہونے کے لیے منگول مشرقی یورپ کے ملکوں سے اتحاد قائم کر رہے ہیں تو وہ بھی بے کار نہیں بیٹھا۔

سلطان بیبرس کی خوش قسمتی کہ اس نے اپنی دانش مندی سے خود منگولوں کی طاقت اور قوت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔دراصل چنگیز خان کے چار بیٹے تھے جوچی خان،چغتائی خان،اوغدائی خان اور تولائی خان،جوچی خان ان علاقوں کا حاكم مانا گیا تھا جسے آج کل وسط ایشیا کہتے ہیں۔جوچی خان کے دو بیٹے تھے بڑے کا نام باتو خان اور اس سے چھوٹے کا نام برقائی خان،جوچی کے بعد اس کا بیٹا باتو خان ان علاقوں کا حاكم بنا اور باتو کے بعد اس کا چھوٹا بھائی برقائی خان دریائے وولگا کے علاقوں کے آس پاس کا حاكم بن گیا تھا۔

مسلمانوں اور سلطان بیبرس کی خوش قسمتی کہ چنگیز خان کے پوتے برقائی خان نے اسلام قبول کر لیا اس کی وجہ سے بہت سے منگول حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔اب چنگیز خان کے دو پوتے حرکت میں تھے ایک ہلاکو خان جو مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار تھا اور دوسرا برقائی خان جو وسیع سلطنت کا حکمران تھا۔

ان حالات میں سلطان بیبرس نے ہلاکو خان کا مقابلہ کرنے کے لئے چنگیز خان کے نو مسلم پوتے برقائی خان سے دوستانہ اور بردارانہ تعلقات قائم کرنے کا عزم کر لیا۔

جاری ہے۔ان شاءاللہ!


7 مزید پڑھیں: رکن الدین بیبرس قسط

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *