May 5, 2026
Dastan e Islam
رکن الدین بیبرس

Sultan Ruknuddin Baybars – سلطان رکن الدین بیبرس قسط 5

رکن الدین بیبرس قسط 5 میں عین جالوت کی تاریخی جنگ، منگولوں کی شکست، قط بوغا کی گرفتاری اور بیبرس کی عظیم فتح کی مکمل داستان پڑھیں۔

رکن الدین بیبرس پندرہ رمضان ہجری چھ سو اٹھاون اور پچیس اگست سن بارہ سو ساٹھ کو عین جالوت کے مقام پر منگولوں کے سامنے آیا۔کہتے ہیں عین جالوت کے مقام پر مسلمانوں اور منگولوں کے درمیان گھمسان کا رن پڑا۔اس جنگ کی وجہ سے اتنا شور اٹھا کہ ارض و سماں کانپ اٹھے۔امیر رکن الدین بیبرس نے اس معرکے میں حیرت انگیز عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور منگولوں کے ساتھ ٹکرانے سے پہلے ہی اس نے لشکر کے چند انتہائی تربیت یافتہ دستوں کو گھات میں بٹھا دیا تھا۔

پہلے اپنے ہلکے پھلکے دستوں کو اس نے آگے بڑھایا انہیں خوب پھیلا دیا۔منگولوں نے اپنی پوری طاقت اور قوت سے پہلے ان مصری سواروں پر حملہ کیا انہیں دھکیلتے ہوئے اندھا دھند آگے بڑھنے لگے تھے اور یہ سب بیبرس کی تجویز کے مطابق ہو رہا تھا۔اس نے پہلے ہی اپنے سواروں کو تاکید کر دی تھی کہ وہ جم کر منگولوں کا مقابلہ نہ کریں بلکہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہو جائیں۔

چنانچہ انہوں نے اسی کے مطابق عمل کیا۔جب منگول ان پر حملہ آور ہوئے تو وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے یہاں تک کہ وہ وہاں آگئے جہاں رکن الدین بیبرس نے اپنے لشکر کا ایک حصہ گھات میں بٹھا رکھا تھا اور وہ حصہ منگولوں پر حملہ آور ہونے کے لیے بے چین اور بے تاب تھا۔

یکایک گھات میں بیٹھا ہوا وہ لشکر تکبیریں بلند کرتا ہوا نکلا اور منگولوں پر ٹوٹ پڑا۔

اس سے قبل کہ منگول اپنے آپ کو سنبھالتے مصر کے وہ لشکری جو پیچھے ہٹے تھے وہ بھی بے مثال جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منگولوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔

ہلاکو خان کے سالار قط بوغا نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ اپنے لشکر کو سنبھالے لیکن اس کی ساری تدبیریں ناکام ہوئیں۔مسلمانوں کے تیز اور تند حملوں نے منگولوں کے لشکر کے پرخچے اڑا دیے۔منگولوں کے لشکر میں جو گرجستانی اور آرمینیا کے عیسائی دستے تھے ان کا سب سے برا حشر ہوا۔مسلمان حملہ آوروں نے انہیں مکمل طور پر روند کر رکھ دیا۔تھوڑی ہی دیر میں سلطان ركن الدین بیبرس نے اپنے لشکر کے ساتھ منگولوں کا اس قدر قتل عام کیا ان کی ایسی کمر توڑی کہ انہیں تقریباً روند کر رکھ دیا اور انہیں ایسا چرکہ لگایا کہ پچھلے چالیس سالوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی تھی۔

منگولوں کا سپہ سالار اعلیٰ قط بوغا اس جنگ میں سلطان رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا تھا۔

یہ درندہ صفت منگول سالار مسلمانوں پر بے پناہ مظالم توڑ چکا تھا اور کسی رعایت کا مستحق نہیں تھا۔اسے جب رکن الدین کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ رکن الدین کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔

“مسلمانوں نے میدان جیت لیا تو کیا ہوا؟کیا منگولوں کی گھوڑیوں نے بچے جننا چھوڑ دیے ہیں؟کیا ان کی عورتیں بانجھ ہو گئی ہیں؟میرے مرنے کے بعد منگول شہسوار اس شکست کا بدلہ ضرور لیں گے اور تمہیں اور تمہارے ملک کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں سے کچل کر رکھ دیں گے۔”

رکن الدین بیبرس منگولوں کے سپہ سالار کے ان الفاظ پر طنزیہ مسکرایا۔اس کا سر کاٹ کر رکھ دیا اور اس کا کٹا ہوا سر نمائش کے کے قاہرہ بھیج دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی جو بڑے بڑے منگول سالار جنگ میں گرفتار کیے گئے تھے ان کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا کر قاہرہ بھیجا گیا جہاں ان کو گلیوں میں پھرا کر تہہ تیغ کر دیا گیا۔اس طرح منگول جن کے متعلق مشہور تھا کہ کوئی ان کو شکست نہیں دے سکتا سلطان رکن الدین بیبرس نے انہیں شکست دے کر انہیں ان کے عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔

عین جالوت کی اس جنگ کا شمار تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں کیا جاتا ہے۔اگر اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہو جاتی تو دنیا میں ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ رہتی اور ان کی تہذیب اور ثقافت،تمدن اور تاریخ بالکل برباد ہو جاتی۔چنانچہ تمام عالم اسلام میں اس فتح پر بے پناہ مسرت کا اظہار کیا گیا اور شکرانے کی نمازیں پڑھی گئیں۔

* * *

ہلاکو خان کو اپنے سالار قط بوغا کی شکست کی خبر اس وقت پہنچی جب وہ اپنے آبائی دشت صحرائے گوبی کی طرف جا رہا تھا اور اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ صحرائے گوبی سے پلٹ کر وہ مصر پر حملہ آور ہوگا اور مصر کو نیست و نابود کر کے رکھ دے گا۔

دوسری طرف امیر رکن الدین بیبرس نے عین جالوت میں منگولوں کو شکست دے کر ان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی لیکن اس کا کام ابھی نامکمل تھا اس لیے کہ منگولوں کو عین جالوت میں شکست دینے کے باوجود وہ دیکھ رہا تھا کہ حلب،حماة، دمشق اور اس طرح اور بہت سے دوسرے مسلمانوں کے شہروں میں منگول دندناتے پھر رہے تھے۔

اب رکن الدین بیبرس اپنے لشکر کے ساتھ حرکت میں آیا۔ایک طوفانی یلغار میں وہ شام کے مختلف شہروں میں جو منگول تھے ان پر حملہ آور ہوا اور انہیں تابڑ توڑ اور لگاتار شکستیں دیں اور ان کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

اپنی اس طوفانی مہم میں بیبرس نے ان تمام غدار مسلمانوں کا بھی خاتمہ کر دیا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف حملہ آور ہلاکو خان سے تعاون کیا تھا اور اس کی کامیابیوں میں اس کے معاون ثابت ہوئے تھے۔اس طرح چند دن کے اندر اندر رکن الدین بیبرس نے شام کے تمام شہروں سے منگولوں کا صفایا کر دیا۔

وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عنقریب ہلاکو پلٹے گا اور مسلمانوں سے انتقام لے گا لہٰذا وہ بھی اپنے لشکر کی تعداد بڑھانا چاہتا تھا۔لشکر کو مزید مظبوط اور مستحکم کرنا چاہتا تھا لہٰذا اپنے کچھ سالاروں اور لشکریوں کو اس نے ارض شام میں ہی چھوڑا اور خود واپس قاہرہ کی طرف چلا گیا۔

قاہرہ میں ان دنوں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا وہ یہ کہ جس وقت امیر رکن الدین بیبرس نے شام اور فلسطین سے منگولوں کا قتل عام کر کے ان کو نکال باہر کیا تو مصر کے سلطان ملک مظفر نے ایک شخص بدر الدین لولو کے بیٹے علاؤ الدین کو حلب کا حاکم مقرر کر دیا۔

چونکہ بغداد پر حملے کے وقت بدر الدین لولو نے ہلاکو کا ساتھ دیا تھا لہٰذا یہ صورت حال دیکھتے ہوئے بہت سے امراء ملک مظفر کے خلاف ہو گئے لہٰذا انہوں نے اس کا خاتمہ کر دیا اور اس کی جگہ رکن الدین بیبرس کو اپنا سربراہ اور سلطان منتخب کر لیا۔

اس طرح سترہ ذی قعد ہجری پانچ سو پچاسی سن بارہ سو ساٹھ کو رکن الدین بیبرس مصر کا سلطان بنا۔اس کی تخت نشینی کے اعلان پر اہل مصر نے بڑے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا اس لیے کہ رکن الدین بیبرس نے پہلے منصورہ اور غزہ میں فرانسیسیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے مصر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا اور اب عین جالوت میں منگولوں کو عظیم الشان شکست دے کر وہ تمام عالم اسلام بالخصوص اہل مصر کی آنکھ کا تارا بن چکا تھا۔

چنانچہ جب اسے سلطان بنایا گیا تو اہل مصر نے والہانہ جوش و خروش سے نہ صرف سلطان کی حیثیت سے اس کا استقبال کیا بلکہ اس کی درازی عمر کی دعائیں مانگی گئیں۔دراصل عین جالوت کی فتح نے مصر اور شام میں رکن الدین بیبرس کی ہر دل عزیزی کو اوج کمال تک پہنچا دیا تھا۔

جاری ہے۔ان شاءاللہ!


مزید پڑھیں: رکن الدین بیبرس قسط 6

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *