May 5, 2026
Dastan e Islam
رکن الدین بیبرس

Sultan Ruknuddin Baybars | سلطان رکن الدین بیبرس | Qist 7

برقائی خان، منگول اتحاد اور مسلمانوں کی حکمت عملی

کن الدین بیبرس قسط 7 میں منگولوں کے اندرونی اختلافات، برقائی خان کا اسلام قبول کرنا اور بیبرس کی شاندار سفارتی حکمت عملی جانیں۔

منگولوں کے خان اعظم منگو خان کے زمانے میں جو ہلاکو خان کا بڑا بھائی تھا برقائی خان اور ہلاکو خان میں بظاہر اتحاد رہا لیکن در پرده ان کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے۔ برقائی خان مشرف اسلام ہو چکا تھا اور قدرتی طور پر اسے مسلمانوں سے ہمدردی تھی۔دوسری طرف ہلاکو خان اپنے آبائی مذہب پر قائم تھا جبکہ اس کی عیسائی بیوی دقوزہ کی وجہ سے یورپ کے عیسائی ممالک بھی اس کے طرف دار ہو گئے تھے۔ اس کی عیسائی بیوی ترکوں کے قبیلے قریت کے خاقان کی بیٹی تھی جو نسطوری عیسائی تھا۔برقائی خان کیونکہ مسلمان ہو چکا تھا لہٰذا اسے مسلمانوں سے ہمدردی تھی۔

اس نے اپنی ہمدردی کا اظہار پہلی بار اس وقت کیا جب ہلاکو نے بغداد پر حملہ آور ہو کر شہر کو برباد کیا تو ہلاکو خان کے نام برقائی خان نے ایک خط لکھا۔اس خط میں سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے برقائی خان نے اپنے چچا زاد بھائی ہلاکو کو کہا تھا؛

“تم نے ایک مقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے اور اس معاملے میں اپنے خاندان کے دوسرے افراد سے مشورہ نہیں کیا۔”

برقائی خان کے ان الفاظ کے جواب میں ہلاکو خان اور زیادہ وحشت پر اتر آیا۔اس نے برقائی خان کی تنبیہہ کا کوئی اثر نہ لیا اور طنزیہ انداز میں اسے ٹھکرا دیا۔وہ اپنی مسلم کشی کی روش پر قائم رہا جن علاقوں کو فتح کرتا وہاں کے مسلمانوں پر بڑی سختیاں کرتا اور عیسائیوں پر مہربانیاں اور الطاف اکرام کی بارش کرتا چنانچہ عیسائی ہلاکو خان کو اپنا مربی اور سرپرست سمجھنے لگے تھے۔

اس بناء پر ان گنت عیسائی ہلاکو خان کے لشکر میں شامل ہونا شروع ہو گئے تھے اس طرح دن بدن ہلاکو خان کی طاقت اور قوت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اس موقع پر مشہور مؤرخ ہیرلڈم لکھتا ہے۔

جدهر جدهر سے ہلاکو خان کے دستے گزرتے تھے مسجدوں کو آگ لگا دی جاتی لیکن کلیساؤں کو کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا۔

مسلمانوں پر ہلاکو کے مظالم کی یہ خبریں دریائے وولگا کے کنارے مسلمان منگول حکمران برقائی خان کو بھی پہنچ رہی تھیں وہ ہلاکو خان کی مسلم دشمنی اور صلیب نوازی پر سخت پیچ و تاب کھاتا تھا۔جب ہلاکو خان کا بھائی اور منگولوں کا خاقان منگو خان مر گیا تو برقائی خان اور ہلاکو خان کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔چنگیز خان کی اولاد میں سے منگولوں کے لیے خاقان اعظم چننے کے لیے جھگڑے رونما ہو گئے۔

ان میں برقائی خان نے ایک فریق کا ساتھ دیا اور ہلاکو نے دوسرے کا۔اس طرح ان کے درمیان جو پہلے سے اندر ہی اندر سرد جنگ چل رہی تھی وہ اب گرم جنگ میں تبدیل ہونی شروع ہو گئی۔

جب ہلاکو خان اور برقائی خان کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے تو ہلاکو خان کے لشکر میں وہ منگول جو برقائی خان کے حامی تھے ان میں سے کچھ تو ہلاکو خان کے لشکر سے نکل کر برقائی خان کا رخ کرنے لگے اور کچھ دستے مصر کا رخ کرنے لگے۔مصر میں آکر انہوں نے برقائی خان کی طرح اسلام قبول کر لیا۔انہوں نے سلطان بیبرس کے ہاں پناہ لی۔

سلطان کو انہی پناہ لینے والے منگولوں سے برقائی خان اور اس کی عظیم سلطنت سے متعلق تفصیل معلوم ہوئی۔

یہ تفصیل جاننے کے بعد سلطان بیبرس کی دوربین نگاہوں نے فوراً بھانپ لیا کہ برقائی خان سے دوستانہ مراسم قائم کرنے میں مسلمانوں کے لیے فوائد ہی فوائد نکل سکتے ہیں۔

چنانچہ سلطان بیبرس نے ایک سفارت مرتب کی اور اس کو قسطنطنیہ کے راستے برقائی خان کے دارالحکومت سرائے شہر کی جانب روانہ کیا۔

بد قسمتی سے اس سفارت کو قسطنطنیہ کے شہنشاہ نے ہلاکو خان کی خوشنودی کی خاطر راستے ہی میں روک لیا اس لیے کہ عیسائی دنیا اس وقت ہلاکو کا ساتھ دے رہی تھی۔

سلطان بیبرس کی خوش قسمتی کہ انہی دنوں برقائی خان کی طرف سے ایک وفد قاہرہ پہنچا۔یہ وفد سلطان بیبرس کی خدمت میں حاضر ہوا اور برقائی خان کی طرف سے ایک خط سلطان بیبرس کو پیش کیا گیا۔

ہم مسلمان ہیں اور ہم اپنے غیر مسلم رشتہ دار ہلاکو سے لڑ رہے ہیں اس لئے مصر کے سلطان کو چاہیے کہ وہ دریائے فرات کی وادی میں ہلاکو خان کے مقبوضہ جات پر چڑھائی کر دے۔

سلطان بیبرس کے لیے چنگیز خان کے مسلمان پوتے برقائی خان کی طرف سے یہ ایک نہایت خوش آئند پیغام تھا۔

برقائی خان کے پیغام سے سلطان بیبرس سمجھ گیا تھا کہ منگولوں کے خلاف سب سے طاقت ور حلیف جو اسے مل سکتے ہیں وہ خود منگول ہی ہیں چنانچہ اس نے مسلمان ہونے والے منگول برقائی خان کے مشیروں کا پرتپاک انداز میں خیر مقدم کیا۔

برقائی خان کے سفیروں کو سلطان نے بیش بہا خلعتوں اور اعلیٰ درجے کے تحائف سے نوازا اور مصر میں اس نے اپنے نام کے خطبے کے ساتھ برقائی خان کا نام بھی شامل کیا۔

اس کے علاوہ سلطان بیبرس نے برقائی خان کے نام ایک طویل خط لکھا۔کہا جاتا ہے کہ یہ خط ستر صفحات پر مشتمل تھا اور سلطان نے اس کو اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔

اس خط میں سلطان نے جہاد سے متعلق قرآن مقدس کی مختلف آیات کے حوالے بھی دیے تھے اور حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ بھی رقم کی تھی۔

اس کے علاوہ سلطان بیبرس نے برقائی خان کو یہ بھی لکھا کہ سلطان خود بھی دشت قبچاق کا رہنے والا ہے اور ایک عاجز مسلمان کی حیثیت سے اپنے عظیم نو مسلم بھائی کو سلام بھیجتا ہے۔

اپنے خط میں سلطان نے یہ بھی لکھا کہ یہ سب سے بڑی پر مسرت بات ہے کہ عظیم برقائی خان اپنے چچا زاد بھائی ہلاکو خان کی سرگرمیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ہلاکو اسلام کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے اور یہ عاجز بیبرس اسلام کو بچانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

سلطان نے یہ بھی لکھا کہ قاہرہ کی جامع مسجد میں عباسی خلیفہ اور میرے نام کے ساتھ برقائی خان کا نام بھی خطبے میں پڑھا گیا ہے۔ سلطان نے لکھا کہ اگر ہلاکو حملہ کرے تو آپ اس کی پشت کی طرف سے حملہ کریں۔

یہ خط دے کر سلطان نے برقائی خان کے سفیروں کو نہایت احترام کے ساتھ رخصت کیا۔

اس کے علاوہ اپنے کچھ سفیر بھی بہت سے قیمتی تحائف دے کر برقائی خان کی طرف روانہ کیے۔

ان تحائف میں قرآن پاک کا نادر نسخہ، مرصع تخت، مصلے، تلواریں، کمانیں، نیزے، پردے، گھوڑے، اونٹ، طوطے، غلام اور بے شمار دیگر اشیاء شامل تھیں۔

جاری ہے۔ان شاءاللہ!


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *